باتوں باتوں میں چھوڑنے کا اشارہ کر کے
خود بھی رویا وہ بہت ہم سے کنارہ کر کے
سوچتا رہتا ہوں ، تنہائی میں انجام خلوص
پھر اسی ،، جرم محبت کو ،، دوبارہ کر کے
جگمگا دی ہیں تیرے شہر کی گلیاں میں نے
اپنے ہر اشک کو،،، پلکوں پہ ستارہ کر کے
دیکھ لیتے ہیں ، چلو ،، حوصلہ اپنے دل کا
اور کچھ روز ، تیرے ساتھ گزارا کر کے
ایک ہی شہر میں رہنا ہے، مگر ملنا نہیں
دیکھتے ہیں ، یہ اذیت بھی گوارہ کر کے
چرا کے لے گیا جام اور پیاس چھوڑ گیا
وہ ایک شخص جو مجھ کو اداس چھوڑ گیا
جو میرے جسم کی چادر بنا رہا برسوں
نہ جانے کیوں وہ مجھے بے لباس چھوڑ گیا
وہ ساتھ لے گیا ساری محبتیں اپنی
ذرا سا درد مرے دل کے پاس چھوڑ گیا
سجھائی دیتا نہیں دور تک کوئی منظر
وہ ایک دهند مرے آس پاس چھوڑ گیا
غزل سجاوں قتیل اب اسی کی باتوں سے
وہ مجھ میں اپنے سخن کی مٹھاس چھوڑ گیا
کتنا مشکل ہے اذیت یہ گوارا کرنا
دل سے اترے ہوئے لوگوں میں گزارا کرنا
زندگی ہم پر یہ آسان بھی ہو سکتی تھی
سیکھ لیتے جو کسی درد کا چارہ کرنا
کہاں جاتے ہو ابھی ساتھ گزارو کچھ دن
ہم پر مشکل کوئی آئے تو کنارہ کرنا
کتنا مشکل ہے جلانا کسی رستے میں چراغ
کتنا آسان ہے ہواوں کو اشارہ کرنا
زندگی ہم تو چلو مان کے سہہ بھی گے
ایسا برتاو کسی سے نہ دوبارہ کرنا
0 Comments
Tamam Friends Sy Request Hy, K Comments Main Koi Bhi '' Website Link '' Ya Bad Words Use Na Karin. Nahy To Ap Ka Comments Approved Nhy Kiya Jay Ga.
This Message From ! Malik Masood